بینگلورو۔ 21 مارچ (ایس او نیوز ) حجاب معاملہ میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کر تے ہوئے کرناٹک بند کے اعلان کو توہین عدالت اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے امرتیش نامی ایک وکیل نے کرناٹک ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے نام میں ایک تحریری شکایت دی ہے اور اپیل کی ہے کہ بند کی آواز دینے والوں اور اس سے متصل ذمہ داروں کے خلاف توہین عدالت کا ایک کیس درج کیا جائے ۔
کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک رٹ عرضی دائر کرتے ہوئے امریتیش کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے خلاف بند کا اعلان کرنا اور احتجاج درج کروانا توہین عدالت کے مترادف ہے۔ ان کی شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ شخصیتوں نے ملک کے عدالتی نظام کے خلاف اپنی رائے ظاہر کی ہے اور ساتھ ہی یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ججوں نے اپنا فیصلہ دباؤ میں سنایا ہے۔ فیصلہ سنانے والے ججوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، جمہوریت میں اس طرح کی سرگرمیاں درست نہیں۔ انہوں نے مانگ کی ہے کہ عدالت کے فیصلے کے خلاف عوامی احتجاج کی آواز دینے والوں کی باز پرس کی جائے اور ان کے خلاف ازخود مقدمات درج کئے جائیں۔
یاد رہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ کی سہ رکنی بینچ نے حال ہی میں سرکاری کالجس میں حجاب پر پابندی کو بحال رکھتے ہوئے اسے جائز ٹہرایا تھا اور تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ اس بات پر ناراض مسلم دکانداروں نے باحجاب طالبات کے ساتھ اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری ریاست میں کاروباری اداروں اور دکانوں کو ایک دن کے لئے بند کردیا تھا۔ بعد میں ہائی کورٹ کی طرف سے انصاف نہ ملنے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے۔